ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہندوستان سارک اجلاس میں شریک نہیں ہوگا:سشما

ہندوستان سارک اجلاس میں شریک نہیں ہوگا:سشما

Thu, 29 Nov 2018 11:41:28    S.O. News Service

حیدرآباد،29؍نومبر (ایس او نیوز؍یواین آئی ) وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ جب تک پڑوسی ملک دہشت گردانہ سرگرمیو ں کو نہیں روکے گا ہندوستان پاکستان میں ہونے والے سارک اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کرتارپور راہداری کی تعمیر کے اسلام آباد کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔ حیدرآباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اس چوٹی کانفرنس میں پاکستان کی دعوت پر مثبت ردعمل کا اظہار نہیں کررہے ہیں۔ جب تک پاکستان ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں پر روک نہ لگائے ہم ایسے دعوت نامے کو قبول نہیں کریں گے ۔ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ہم سارک کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے ۔سشما سوراج جنہوں نے کرتارپور راہداری کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شرکت کے لئے اسلام آباد کی دعوت کو مسترد کردیا کہا کہ ہندوستان نے اس تقریب کے لئے دو وزراء کو ذمہ داری دی ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ اس راہداری کا طویل عرصہ سے انتظار تھا۔ کئی سالوں سے ہندوستانی حکومت کرتارپور راہداری کی خواہش کررہی تھی۔ لیکن اب پاکستان نے اس پر مثبت ردعمل کاا ظہار کیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کے ذریعہ باہمی مذاکرات کا آغاز ہو ۔ دہشت گردی اور بات چیت دونوں ایک ساتھ نہیں ہوسکتے ۔ سشما سوراج نے تلنگانہ اسمبلی کے7دسمبر کو ہونے والے انتخابات کے سلسلہ میں بی جے پی کی انتخابی مہم کے حصہ کے طور پر میڈیا سے بات کی۔ انہو ں نے کہا کہ جس لمحہ بھی پاکستان ’ ہندوستان میں دہشت گرد سرگرمیاں روکے گا بات چیت شروع ہوگی لیکن کرتارپور راہداری سے بات چیت کو نہیں جوڑا جانا چاہئے ۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان توقع ہے کہ اس تقریب میں شرکت کریں گے ۔ سشماسوراج نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تلنگانہ میں بی جے پی کو ووٹ دیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بی جے پی کو تلنگانہ میں برسراقتدار نہیں لایا جاتا تلنگانہ کی تعمیر نو نہیں ہوسکے گی۔ ا نہو ں نے کہا کہ ریاست کے عوام کے لئے تلنگانہ کو ریاست کا درجہ دیا گیا نہ کہ کارگزار وزیر اعلیٰ چندرشیکھرراؤ کے5ارکان کے لئے تلنگانہ بنایا گیاہے ۔ انہو ں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے لئے2000سے زائد نوجوانوں نے خودکشی کی لیکن حکومت نے صرف400کی قربانیو ں کو ہی تسلیم کیا۔ انہو ں نے کہا کہ بی جے پی نے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی حمایت کی تھی۔ 


Share: